مدتوں جو نہ دیکھا تو الجھ پڑا میں!
اے میری خودسری - ایسا تو نہ تھا میں
ہاں ہوا کے بگولے کی طرح تیز ہوا تھا
محور تو تمہی تھی کہیں بھٹکا تو نہ تھا میں
بڑی دیر تک آج میں آئینہ دیکھتا رہا!
کوئی میرے جیسا تھا وہ تو نہ تھا میں
میں انا تھامے اُسے دور تک دیکھتا رہا
وہ تو جاں تھی اب خود سے بھی گیا میں
اُس نے بڑے طریقے سے جو پوچھا مجھ سے
ہم ایسے سادہ دل کہ پھر بول پڑا میں
تنہائی کی دلدل میں وہ مجھے دیکھ رہی تھی
اور میں چیخ رہا تھا کہ گیا میں گیا میں!
تیرے لہجے میں چھپے درد کو محسوس کیا ورنہ
میں بھول چکا تھا کہ تجھے یاد رہا میں
منزل تک پہنچا تو سبھی لُوٹ چکا تھا
میں تیرے سامنے تھا اور تیرا بھی نہ تھا میں
میری باتیں کیوں ٹھیک لگ رہی ہیں انہیں
دل ہی ٹوٹا ہے یا کہیں مر تو نہیں گیا میں
پھر کوئی آیا مجھے رسم و رواج سکھانے
جی آپ کریں باتیں یہاں بیٹھیں کہ گیا میں
حیراں ہیں پرندے بھی کہ یہ رنگ کیسا ہے!
جو ہواؤں میں بکھرے اور پروں میں بھی رہے
یہ ذرا مشکل ہے کبھی اس کو قضا کرنے دو!
وہ سوچے بھی تمہیں اور صفوں میں بھی رہے!
اک ہم ہیں کہ ہر اک بات کو لیتے ہیں جنوں
وہ محبت بھی کرے اور حدوں میں بھی رہے!
لوگ کہتے ہیں اچھا ہوا ٹھکانے لگا وہ!
بڑے عرصے سے بیچارا پریشان بہت تھا
اب وہ گیا تو محسوس ہوا مجھ کو!
وہ فرشتہ تو نہ تھا مگر انسان بہت تھا
اکثر اس طرح ہوا کہ مجھے لوٹنا پڑا!
پُل کے اُس طرف میرا سامان بہت تھا
انا اور لفظوں سے پرے کی اُس دنیا تک
ہم ساتھ ساتھ چلیں گے گمان بہت تھا
اس بار وہ سامنے تھی تو نظر آیا مجھے
وہ فاصلہ جو ہمارے درمیان بہت تھا
میں بھی نکلا تھا پانی اٹھانے گھر سے
اس بار سنا بارش کا امکان بہت تھا
تم سے گلہ کیا ہر کوئی حدوں کا ہے اسیر
مجھے خود پہ بھروسہ بھی میری جان بہت تھا
میں نہیں کہوں گا کہ تم کھلی آنکھ رکھتی
دھول اڑ رہی تھی - طوفان بہت تھا
اس بار تو فاصلوں نے کمال ہی کر دیا
میں کچھ بول ہی نہ سکا وہ بدگماں بہت تھا
اس بے نام رشتے میں میری جاں تقاضے کیسے
ایسا نہ کہو کہ رات تیری چاند میرا ہے!
گزری رفاقتوں نے ہر بار میرا ایک حصہ کاٹا
اب میرے پاس جو بچا ہے سب تیرا ہے!
یہ کون سی جگہ پہ میرا دل مجھے پھر لے آیا
دن بھی ہے سورج بھی ہے اور اندھیرا ہے!
اس بار جب اس کو دیکھا۔ تو ویسا نہیں لگا
کچھ وہ بھی بدل گیا تھا۔ کچھ ہم بھی بدل گئے
کچھ وہ بھی تھا اعتدال میں۔ کچھ ہم بھی تھے معتبر
کچھ وہ بھی سنبھل گیا تھا۔ کچھ ہم بھی سنبھل گئے
ہم تھے کہ سخت چٹان اور وہ کہ موسم کی پہلی برف
کچھ وہ بھی پگھل گیا تھا۔ کچھ ہم بھی پگھل گئے
دو چار سیڑھیاں تھیں بس اور وہ بھی وہیں نہ تھا
کچھ وہ بھی پھسل گیا تھا۔ کچھ ہم بھی پھسل گئے
ہم تھے کہ لفظ تراش اور وہ کہ سنگ مرمر
کچھ وہ بھی عزل گیا تھا۔ کچھ ہم بھی عزل گئے
پھر اس طرح ہوا کہ حالات کے سانچوں میں
کچھ وہ بھی ڈھل گیا تھا۔ کچھ ہم بھی ڈھل گئے